ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نفرت کے سوداگروں کے منہ پر ژناٹے دار طمانچہ ، اسلام قبول کرنے والے بیٹے کے قتل کے بعد ماں بھی مسلمان ہوگئیں

نفرت کے سوداگروں کے منہ پر ژناٹے دار طمانچہ ، اسلام قبول کرنے والے بیٹے کے قتل کے بعد ماں بھی مسلمان ہوگئیں

Sat, 03 Dec 2016 11:35:32    S.O. News Service

کیرلا میں آر ایس ایس کارکن کے ہاتھوں فیصل کے قتل کے بعد جمیلہ کا انتقام 
ملاپورم ، 2؍ڈسمبر(ایجنسیز )56 سالہ میناکشی اپنی ساری زندگی کٹرہندو تھیں لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ پیر کے دن سے وہ پانچ وقت ’’نسکارم ‘‘ (نماز ) ادا کررہی ہیں۔ میناکشی کا اسلامی نام جمیلہ ہے۔ ان کے فرزند فیصل پی عرف انیش کمار کا 19نومبر کو ملاپورم میں قتل کردیا گیا تھا۔ فیصل نے ایک سال قبل اسلام قبول کیا تھا ۔پولس نے اس قتل کے الزام میں فیصل کے بہنوئی اور آر ایس ایس کارکن ونود سمیت 8؍ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولس نے بتایا کہ ان لوگوں نے ایمان قبول کرنے کے بعد فیصل کو دھمکی دی اور قتل کردیا ۔ جمیلہ نے کہا کہ وہ اپنے 32سالہ بیٹے کی موت پر سخت غمگین ہیں اور اس کی موت کا بدلہ لینے کیلئے اسلام قبول کرلیا ہے۔ میرے بیٹے کو کسی غلطی کے بغیر ہلاک کردیا گیا۔ فیصل ، اس کی بیوی اور ان کے تین بچوں نے رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کیا تھا۔ اسلام قبول کر کے انہوں نے کسی کا کوئی نقصان نہیں کیا ۔ اس کے باوجود ان کو بے دردی سے قتل کردیا گیا ۔ میں نے بھی اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیا ہے۔ میں اپنی بقیہ زندگی اپنے بیٹے کی بیوی اور بچوں کے ساتھ گذاروں گی۔ جمیلہ کہتی ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی فیصل اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا ۔ ماں باپ کو اپنے بیٹے کے اسلام قبول کر لینے پر کوئی اعترض نہیں تھا۔ جس دن فیصل کی لاش گھر لائی گئی اسی دن سے جمیلہ نے گھر چھوڑ دیا اور اب وہ فیصل کی بیوی اور بچوں کے ساتھ چند کلو میٹر دور اپنے ایک رشتہ دار کے یہاں رہتی ہیں جس نے چند سال پہلے اسلام قبول کیا ہے ۔ گوکہ جمیلہ کے شوہر اننتھن نائر نے گھر ہی پر رہنے کو ترجیح دی ہے، انہوں نے اپنے بیوی بچوں کے اسلام قبول کر لینے پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے۔ جمیلہ کہتی ہیں کہ فیصل اور اس کے بیوی بچے گھر پر ’’نسکارم‘‘(نماز) ادا کرتے تھے، اس سے انہیں کوئی پریشانی نہیں تھی ۔ ہم ان کی عبادت میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ اب میں فیصل کے بچوں سے کہتی ہوں کہ مجھے عبادت کرنے کے طریقے بتائیں ۔ میں نے اب اپنا سرڈھانپنا شروع کردیا ہے۔ تاہم جمیلہ کا ابھی سرکاری طور پر اسلام قبول کرنا باقی ہے۔ چند ہفتے قبل اپنے بیٹے سے محروم ہوئی ہیں، ابھی وہ اسلامی تعلیمات کی کلاسوں میں شرکت کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں وہ سب تھوڑا وقت بعد بھی کیا جاسکتا ہے، میں اپنے بیٹے کے قاتلوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ انہوں نے میرے بیٹے کو اسلام قبول کرنے پر قتل کیا، اب میں نے خود اسلام قبول کر لیا ہے۔ جمیلہ نے کہا کہ ان کا بیٹا ابتدائی دنوں میں مذہبی نہیں تھا اور خود کو غیر سیاسی رکھنا چاہتا تھا۔ جمیلہ کو وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب ان کے بیٹے انیش نے اسلام قبول کر لینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ انیش کے والد شراب پیتے تھے ، یہ ماحول انیشن کو ناپسند تھا ۔ جب فیصل نے اسلام قبول کرنے کی بات کہی تو نہ میں نے اور نہ میرے شوہر نے اس پر اعتراض کیا ۔لیکن میری بیٹی کا شوہر ونود بے حد پریشان ہوگیا۔ وہ بعض اوقات میری بیٹی سے کہتا تھا کہ وہ کسی طرح انیش کا قتل کردے گا۔ جمیلہ کہتی ہیں کہ وہ کسی بھی مذہب کی مخالفت نہیں کرتیں کیونکہ ان کے بیٹے کو مذہب نے قتل نہیں کیا ہے۔ فیصل نے کبھی مجھے اسلام قبول کرنے کیلئے دباؤ نہیں ڈالا لیکن وہ کبھی مذاق سے کہتا تھا کہ کس طرح ’’جمیلہ ‘‘نام میرے لئے موزوں رہے گا ۔ میں فیصل کی طرح گوری نہیں ہوں ، میرا رنگ کچھ کالا ہے۔ 


Share: